user-image

آم کا پھل

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ وزن میں کمی کی صورت میں آم اور دودھ کا استعمال مفید ہے۔اس کے لئے ہمیشہ خوب پکے ہوئے اور میٹھے آموں کا انتخاب کرنا چاہیے اور انہیں دودھ کے ساتھ دن میں تین بار یعنی صبح،دوپہر اور شام لینا چاہیے۔پہلے آم کھائیں اور اس کے بعد دودھ پئیں۔چونکہ آم میں بذات خود وافر مقدار میں شکر ہوتی ہے اس لئے دودھ میں چینی شامل نہ کی جائے۔

آم میں شکر تو ہوتی ہی ہے لیکن پروٹین کی کمی ہوتی ہے۔دوسری طرف دودھ میں پروٹین ہوتی ہے لیکن شکر نہیں ہوتی۔اس طرح ان دونوں کا امتزاج ایک دوسرے کی کمی دور کر دیتا ہے۔
شب کوری یعنی رات کو نظر نہ آنے یا کم روشنی میں دیکھ نہ سکنے کے مرض میں پکا ہوا آم مفید ہے۔یہ مرض وٹامن اے کی کمی کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔یہ مرض غذائیت کی کمی کے سبب بہت عام ہے۔

آم کا خوب استعمال اس مرض کے تدارک میں معاون رہتا ہے۔
آموں کا وافر استعمال بھینگے پن،آنکھوں کی خشکی،قرنیہ کی نرمی اور آشوب چشم کے امراض کو بڑھنے سے بھی روکتا ہے۔
آم کے پتے ذیابیطس میں مفید بتائے جاتے ہیں۔تازہ پتوں کو رات بھر پانی میں بھگوئے رکھنے کے بعد صبح پانی کو چھاننے سے پہلے یہ پتے اسی پانی میں اچھی طرح نچوڑ کر یہ مشروب روزانہ صبح پینے سے ذیابیطس پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

آم کے تازہ پتوں کو سائے میں خشک کر لیا جاتا ہے۔پھر ان کا سفوف بنا کر محفوظ کر لیتے ہیں۔یہ سفوف دن میں دو مرتبہ یعنی صبح و شام آ دھا چائے کا چمچہ پانی کے ساتھ استعمال کرنا مفید بتایا جاتا ہے۔
آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے اور یہ بلا وجہ نہیں،طبی ماہرین کے مطابق یہ وٹامن ای سے بھرپور ہے جو جلد کو تروتازہ رکھتی ہے جبکہ وٹامن سی خون میں کولیسٹرول کی مقدار کم کرتی ہے۔

اس میں موجود وٹامن اے بینائی کے لئے مفید ہے۔آم کے ریشے جنہیں فائبر کہا جاتا ہے آنتوں کی صفائی کرتے ہیں اور نظام ہضم کو درست رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔اس میں اینٹی اوکسیڈنٹ پائے جاتے ہیں جو آنتوں اور خون کے کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے۔
کچا اور پکا ہوا آم دونوں صورتوں میں طبی افادیت سے بھرپور ہوتا ہے۔کچا آم ترش قابض اور دافع سکروی ہوتا ہے۔

آم کے پیڑ کی چھال بھی قابض نسجی بافتوں کیلئے مسکن ہوتی ہے۔آم کا اچار بہت مقبول اور مرغوب ہے۔
پکا ہوا آم دافع سکروی،پیشاب آور اور وزن بڑھانے والا پھل ہے۔یہ دل کے پٹھوں کو مضبوط بناتا ہے۔رنگت صاف کرتا ہے اور بھوک بڑھاتا ہے۔اس کا استعمال معدے کی ہضم کرنے والی رطوبت،خون،چربی اور ہڈیوں کا گودا بنانے میں مدد دیتا ہے۔آم جگر کی خرابیوں،وزن کی کمی اور دیگر جسمانی بے قاعدگیوں کو بھی دور کرتا ہے۔

ماہرین طب کے مطابق آم کھانے سے مختلف بیماریوں سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔
سرطان سے بچاؤ
تحقیق کاروں کے مطابق آم میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ سرطان کی کئی اقسام سے بچانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
کولیسٹرول گھٹانے کے لئے
آم میں موجود ہائی لیول فائبر اور وٹامن سی خون میں کولیسٹرول کی مقدار گھٹانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔


جلد اور آنکھوں کی صحت کے لئے
آج کے دور میں جلد اور آنکھوں کے مسائل سے لاتعداد لوگ پریشان ہیں۔چہرے پر اگر دانے نکل جائیں تو چہرے کی خوب صورتی بد صورتی میں بدل جاتی ہے۔آم کا استعمال چہرے پر نکلنے والے دانوں میں مفید ہے۔آم کے استعمال سے وٹامن اے کی ضروریات پوری ہوتی ہیں جن سے آنکھوں کی بینائی پر بھی مثبت اثرات رونما ہوتے ہیں۔


ہیٹ اسٹروک میں موثر
سخت گرمی کے باعث ہیٹ اسٹروک کا خدشہ ہر وقت لگا رہتا ہے۔پھلوں کے بادشاہ آم کے پاس اس مسئلے کا بھی حل ہے۔آم کے جوس کو پانی اور شوگر کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے تو سخت لو کے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔


نظام ہاضمہ کے لئے
بہتر نظام ہاضمہ کے لئے صرف پپیتا ہی موٴثر پھل نہیں۔

آم میں بھی یہ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔طبی ماہرین آم کو نظام ہاضمہ کے لئے بہترین پھل مانتے ہیں۔


انفیکشن
جسم پر بیکٹیریا کا حملہ اس لئے ممکن ہوتا ہے کہ جسم کی خارجی تہہ بنانے والی بافتیں (ٹشوز) کمزور ہو جاتی ہیں۔آم کا استعمال بافتوں کی اس کمزوری کو دور کرتا ہے۔چنانچہ بیکٹیریا کا جسم میں داخلہ ممکن نہیں رہتا۔

آم میں پائی جانے والی وٹامن اے کی وافر مقدار کی وجہ سے پے در پے انفیکشن مثلاً نزلہ،زکام اور ناک کی سوزش رونما نہیں ہوتی۔


گلے کی بیماریاں
آم کی چھال خناق اور گلے کی دیگر بیماریوں میں مفید ہے۔اس کا سیال بیرونی مالش اور غراروں کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔


کچے آم کے فوائد
کچے آم کے بھی کئی فوائد ہیں۔

کچا آم دھوپ کی حدت اور گرم ہوا کے اثرات کو ختم کرتا ہے۔نیم پختہ یعنی کچے پکے آم کو گرم راکھ میں پکا کر اس کے گودے کو پانی اور چینی میں ڈال کر ایک مشروب تیار کر لیا جاتا ہے۔یہ مشروب ہیٹ اسٹروک یعنی لو لگنے کے بد اثرات دور کرنے میں موٴثر ہے۔کچے آم کو نمک لگا کر کھانا پیاس کی شدت مٹاتا ہے۔اس کا استعمال گرمیوں میں اضافی پسینے سے سوڈیم کلورائیڈ کی کمی کو دور کرتا ہے۔

کچے سبز آم معدے اور آنتوں کے لئے بہت مفید ہیں۔ایک یا دو کچے آم جن کی گٹھلی ابھی پوری طرح نہ بنی ہو نمک اور شہد کے ساتھ کھانا گرمی،اسہال،پیچش،بواسیر،صبح کے اضمحلال،پرانی بدہضمی،فساد ہضم اور قبض کے لئے مفید ہے۔
کچا آم صفراوی بیماریوں میں بھی مفید ہے۔کچے آم میں پائے جانے والے ایسڈز صفراء کا اخراج بڑھا دیتے ہیں اور آنتوں کے لئے جراثیم کش مادے کا کردار ادا کرتے ہیں۔

کچے آم روزانہ شہد اور کالی مرچ کے ساتھ کھانا بڑھتے ہوئے صفراء میں مفید ہے۔کچے آم کا استعمال جگر کو تقویت دیتا ہے اور اسے صحت مند رکھتا ہے۔
کچا سبز آم وٹامن سی کی وافر مقدار کے سبب خون کے کئی امراض میں بھی مفید ہے۔یہ خون کی نالیوں کی لچک میں اضافہ کرتا ہے اور خون کے نئے خلیے بنانے میں مدد دیتا ہے۔اس کے استعمال سے غذائی فولاد (فوڈ آئرن) کا انجداب بڑھتا ہے اور خون کا اخراج رکتا ہے۔

یہ انیمیا،ہیضہ اور پیچش کے خلاف جسم میں مزاحمت بڑھاتا ہے۔


آم کا اچار
اچار ہمارے کھانوں کی لذت اور ذائقے کو بڑھاتے ہیں۔اچار اشتہا انگیز اور غذا ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔یوں تو کئی پھلوں اور سبزیوں سے اعلیٰ قسم کا اچار تیار کیا جا سکتا ہے جن میں گاجر،گوبھی،شلجم،مولی،سبز مرچ،لیموں،لسوڑا،کھیرا،آملہ وغیرہ شامل ہیں لیکن جس چیز کا اچار سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے وہ ہے آم کا اچار۔


احتیاطی تدابیر
آم کا اچار بنانے کے لئے آم کو نمک والے پانی سے اچھی طرح دھو کر گرد و غبار اور مٹی کو دور کر لینا چاہیے۔
مناسب طریقہ سے پھانکوں میں کاٹ لیں۔
کٹے ہوئے آم میں ایک نمک کی تہہ لگائیں تاکہ وافر پانی خارج ہو جائے۔قاشیں جتنی چھوٹی ہوں گی نمک ان میں آسانی سے پہنچ جائے گا۔
آم کو زیادہ دیر تک اُبالنے سے اچار نرم پڑ جاتا ہے صرف تین سے چار منٹ تک اُبالنا چاہیے۔

اچار بنانے کے لئے مٹی،پلاسٹک یا شیشے کا برتن استعمال کرنا چاہیے۔
لوہے کا چمچ اچار میں استعمال کرنے سے اچار زنگ آلود ہو جاتا ہے اور کالا پڑ جاتا ہے۔اچار ہلانے کے لئے لکڑی کا چمچہ بہتر ہے۔
نمک،سرکہ اور گڑ زیادہ استعمال کرنے سے اچار میں جھریاں پڑ جاتی ہیں اور وہ سخت ہو جاتا ہے۔بہت کم نمک استعمال کرنے سے اچار بدبو بھی چھوڑ سکتا ہے۔

Comments


© 2022 All rights are reserved by MCQsMaker.com | Design by KodeWhiz.com
info@kodewhiz.com